ابنا: کراچی ناظم آباد نمبر 6میں مسجد و امام بارگاہ نور ایمان کے قائم مقام پیش امام مولانا غلام محمد امینی کو دہشتگردوں نے اُس وقت دہشتگردی نشانہ بنایا جب وہ مسجد نور ایمان سے نماز کے بعد اپنے گھر کی جانب جارہے تھے کہ کا لعدم سپاہ صحابہ کے دہشتگردوں نے اُن پر فائرنگ کردی ۔ شہید کی عمر52سال بتائی جاتی ہے، شہید کو فائرنگ کے نتیجے میں دوگولیاں لگیں جس کے نتیجے میں مولانا موقعے پرہی شہید ہو گئے۔ بعد میں شہید کا جسد خاکی عباسی شہید ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔واضح رہے کہ اسی علاقعے میں مولانا مرزا یوسف حسین کے بیٹے خادم حسین کو دہشتگردی کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ ناظم آباد کا علاقہ پچھلے کئی سالوں سے شیعوں کا مقتل بنا ہوا ہے اور دہشتگردوں کو کھلی چھوٹ دی گئی ہے، اورکئی شہادتوں کے باوجود اب تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی اور نہ ہی کسی قاتل کو سزا ملی۔
ملت تشیع مولانا امینی کی شہادت پر سوگوار ہے، علامہ مختار امامیاسلام ٹائمز:اپنے تعزیتی اور مذمتی بیان میں ایم ڈبلیو ایم صوبہ سندھ کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ سندھ میں پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور اے این پی کی مشترکہ حکومت ہے، اگر یہ مل کر بھی سندھ میں امن و امان قائم نہیں کرسکتے تو حکومت سے فی الفور مستعفی ہوجائے۔مجلس وحدت مسلمین سندھ کے صوبائی سیکرٹری جنرل علامہ مختار امامی نے بزرگ عالم دین و نائب امام جمعہ و جماعت مسجد و امام بارگاہ نور ایمان مولانا غلام محمد امینی کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پوری ملت تشیع ان کی شہادت پر سوگوار ہے اور ان کا قتل امن پسند حلقوں کے لئے بڑا نقصان ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی سمیت ملک بھر میں دہشت گردی بالخصوص شیعہ ٹارگٹ کلنگ استحکام پاکستان اور ملکی جغرافیائی و نظریاتی سرحدوں کے محافظین کے خلاف گہری سازش ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت ملت جعفریہ کے تحفظ میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے، سندھ میں پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور اے این پی کی مشترکہ حکومت ہے، اگر یہ مل کر بھی سندھ میں امن و امان قائم نہیں کرسکتے تو حکومت سے فی الفور مستعفی ہوجائے۔ انہوں نے کہا کہ مجلس وحدت مسلمین وفاقی اور صوبائی حکومت سندھ سے مطالبہ کرتی ہے کہ فی الفور مولانا محمد امینی سمیت تمام شیعہ شہداء کے قاتلوں کو گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دے۔شہید مولانا غلام محمد امینی وادی حسین (ع) قبرستان میں لبیک یاحسین (ع) کی صداؤں میں سپردخاکگذشتہ شب امریکی سعودی نواز دہشت گردوں کی فائرنگ سے شہید ہونے والے جامع مسجد نورایمان کے پیش امام مولانا غلام محمد امینی کی نماز جنازہ مولانا آغاشیخ حسن صلاح الدین کے زیر اقتدا مسجد و امام بارگاہ شاہ کربلا رضویہ میں علماء کرام ذاکرین کرام اور ہزاروں مومنین کی موجودگی میں ادا ہوئی۔ شہید کو وادی حسین قبرستان میں لبیک یاحسین (علیہ السلام) کے فلک شگاف نعروں میں سپردخاک کیا گیا۔اطلاعات کے مطابق مولانا غلام محمد امینی کی نمازہ جنازہ میں شیعہ علماء کونسل پاکستان، جعفریہ الائنس، شیعہ ایکشن کمیٹی، ایم ڈبلیو ایم کے رہنماؤں سمیت بڑی تعداد میں مومنین نے شرکت کی۔ نماز جمعہ میں علامہ مرزا یوسف حسین، علامہ جعفر سبحانی، علامہ شہشاہ حسین نقوی. علامہ منور نقوی، علامہ عبّاس کمیلی، علامہ علی محمد نقوی و دیگر علماء نے شرکت کی۔
......./169 _ 110بشکریہ از شیعہ کلنگ و اسلام ٹائمز
18 جون 2012 - 19:30
News ID: 323165
بزرگ عالم دین و قائم مقام پیش امام (مسجد و امام بارگاہ نور ایمان) مولانا غلام محمد امینی کالعدم سپاہ صحابہ کے دہشتگردوں کی فائرنگ سے شہید / ملت تشیع مولانا امینی کی شہادت پر سوگوار ہے، علامہ مختار امامی۔